مرکز ارتباطات‌و رسانه

آستان قدس رضوی

www.razavi.ir

عناوین صفحه
 خواتین اور خاندانی امور کے مرکز کا قیام

آستان قدس رضوی میں ’’خواتین اور خاندان‘‘کے لئے دیئے جانے والے اقدامات کا جائزہ  

خواتین اور خاندانی امور کے مرکز کا قیام

آستان قدس رضوی کے متولی کی تقرری کے حکم نامے کو رہبر معظم انقلاب اسلامی کی جانب سے سات نکات پر مشتمل منشور کی صورت میں بیان کیا گیا ہے ،اس منشور کے چوتھے نکتہ میں آستان قدس رضوی میں پائی جانے والی عظیم ثقافتی صلاحیتوں کا ذکر کیا گیا ہے جو نہ فقط پورے ملک میں بلکہ پورے عالم اسلام کے لئے مؤثر واقع ہو سکتی ہیں،چونکہ حرم امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے لئے زیادہ تر زائرین اپنی فیملی اور اہلخانہ کے ہمراہ تشریف لاتے ہیں اوران زائرین میں تقریباً ۶۰ فیصد تک خواتین ہوتی ہیں،اس بات کو مدّ نظر رکھتے ہوئے آستان قدس رضوی کے متولی نے انقلابی،مومن اور مسلم خواتین کے فردی اور ذاتی تشخص کو فروغ دینے کے مقصد سےآستان قدس رضوی میں خواتین اور خاندانی امور کے مرکز کو تأسیس کرنے کا حکم دیا ،اس مرکز کا افتتاح۲۰۱۶ میں حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی ولادت با سعادت کے موقع پرکیا گیا۔

 خاتون گارڈن کیمپ

’’خاتون گارڈن کیمپ‘‘پہلا ایسا گارڈن کیمپ ہےجسے خواتین کی ثقافتی،تربیتی اور سماجی سرگرمیوں کے لئے بنایا گیا ہے ،تقریباً۲۵ ایکٹر رقبے پر واقع یہ کمپلیکس؛امام رضا(ع) کے ۱۱۴ ایکٹر رقبے والے بہت بڑے باغ کا ایک حصہ ہے جوکہ مشہد مقدس میں خیام بلیوارڈ اور توس بلیوارڈکے درمیان واقع ہے ،اس گارڈن کیمپ کا افتتاح ۲۰۱۸ میں کیا گیا اور۲۰۲۰ میں اسے دوسرے مقاصد کے استعمال میں لانا شروع کیا گیا،اس گارڈن کیمپ میں سرکاری میٹنگز کے انعقاد کے لئے ۴۰ افراد کی گنجائش والے میٹنگ ہال کے علاوہ مختلف تقریبات اور سیمینارز معنقد کرانے کے لئے بھی کانفرنس ہال موجود ہے جس میں ۲۵۰ افراد کی گنجائش ہے۔ان کے علاوہ ۱۲۰۰ مربع میٹر پر ایک نیا ہال تعمیر کیا گیا ہے جس میں مختلف نمائشیں اور تربیتی و ثقافتی پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں اورنوجوانوں اور بچوں کی کیمپنگ کے لئے ۶۰۰ مربع میٹر پر رضوانہ ہال کو بھی اس گارڈن کیمپ میں تعمیر کیا گیاہے ،اس گارڈن کیمپ میں کافی شاپ،پلے گراؤنڈ،بچوں کے لئے کھیل کا میدان،تالاب اور ایک نماز خانہ بھی موجود ہے۔

 خواتین کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لئے خصوصی اقدامات

آستان قدس رضوی کے صوبائی اور ملکی سطح پر مختلف ہسپتالوں سمیت ۲۰ طبی مراکز ہیں ان کے علاوہ مختلف ادویات بنانے میں سرگرم عمل ہونے کی وجہ سے نہ فقط خطے میں بلکہ پورے ملک میں صحت اور طبی سرگرمیوں کا اہم ترین مرکز جانا جاتا ہے ،اس کی طبی سرگرمیوں کی ایک واضح مثال۳۲۰ بیڈ والےاسپیشل رضوی ہاسپسٹل کی تعمیر ہے جس میں فراہم کی جانے والی خدمات کی وسعت،تنوع اور انفرادیت کے ساتھ ساتھ دنیا کے جدید ترین طبی آلات و وسائل سے لیس ہونے کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں علاج و معالجہ کا اہم ترین مرکز ہے اورحتی بعض جہات سےیورپین طبی مراکز کا ہم پلّہ ہے ۔

اس طبی مرکز میں مریضوں کے علاج و معالجہ اور بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ۶۲۳ ڈاکٹرز کام کرتے ہیں ؛جن میں سے ۴۰۶ ڈاکٹرز مرد اور۲۱۷ خواتین ڈاکٹرز ہیں جو کہ طب اور پیرا میڈیسن کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دیتے ہیں،اور وہ خواتین جو علاج کےلئے اس طبی مرکز میں تشریف لاتی ہیں وہ بغیر کسی پریشانی کے اپنا علاج خواتین ڈاکٹرز سے کروا سکتی ہیں، اس طبی مرکز کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والی ۹۶۵ خواتین جن میں مذکورہ ڈاکٹروں کے علاوہ ۳۵۷ خواتین نرسنگ،منیجمنٹ،سپروائزرنگ اور نرسنگ ہیڈ کے عنوان سے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

 عفاف و حجاب کے کلچر کو فروغ دینے کی کاوشیں

کرامت رضوی فاؤنڈیشن کے مرکز برائے خواتین و خاندانی امور نے ۲۰۲۳ کے عشرہ کرامت میں’’مثل خورشید‘‘ کے عنوان سے تین سطحی یعنی قلیل مدتی،درمیانی مدت اور طویل المدتی پراجیکٹ کا آغاز کیا جس کا مقصد عفاف و حجاب کلچر کو فروغ دینا تھا یہ پراجیکٹ ۲۰۲۴ تک جاری رہے گا،اس منصوبے کا مجموعی ہدف و مقصدعفاف و حجاب کے کلچر کو فروغ دینا ہے اور اس منصوبے کے جزوی اہداف و مقاصدمیں حجاب و عفاف کے شعبے میں سرگرم کارکنوں کو توانمند بنانا اور ان کے مابین نیٹ ورکنگ کی تشکیل کے ساتھ ساتھ عفاف و حجاب کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے ان کی صلاحیتوں سے مستفید ہونا شامل ہیں۔

عفاف و حجاب کے اس منصوبے کے مخاطبین میں ،حرم امام رضا علیہ السلام کےاطراف ،شہر مشہد مقدس اور دیگر شہروں کی ضعیف الحجاب(کم حجاب پہننے والی بچیاں)نوجوان اور جوان بچیاں شامل ہیں ان کے علاوہ ملک بھر میں حجاب و عفاف(عفت و حیا) کے کلچر کو فروغ دینے میں سرگرم عمل بچیاں بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔ ’’مثل خورشید‘‘ پراجیکٹ کا پہلا قدم قلیل المدت تھا،اس قلیل المدت منصوبے کو سب سے پہلے حرم امام رضا علیہ السلام کے اطراف میں نافذ کیا گیا،حرم امام رضا علیہ السلام کے اطراف میں روحانیت سے بھرپور ماحول کے علاوہ اس منصوبے کو قبول کرنے کی شرائط فراہم ہونے کی وجہ سے آزمائشی طور پر اس منصوبے کو عشرہ کرامت کے موقع پر شروع کیا گیا۔

 ’’حسنا‘‘پراجیکٹ(حامیان سنت نبوی ازدواج)

خاندانی بنیادوں کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لئے آستان قدس رضوی اور عوامی تنظیموں کے تعاون سے ’’حسنا‘‘ پراجیکٹ کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد سنت نبوی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے شادی بیاہ کی سہولیات فراہم کرنا ہے ،درحقیقت ’’حسنا‘‘ ایسے لوگوں کا نیٹ ورک ہے جو آستان قدس رضوی کے مرکز برائے خواتین و خاندانی امور میں شادی بیاہ کو فروغ دینے اور خاندان کی تشکیل و استحکام کے سلسلے میں مدد کرسکتے ہیں،اس قومی منصوبے پر عمل درآمد کرنے کے پہلے مرحلے میں عوامی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شادی بیاہ میں ثالثی کی نیک روایت کو بحال کرنے کے لئے نیٹ ورکنگ کا قیام عمل میں لایا گیا،’’حسنا‘‘ پراجیکٹ کے تحت مواصلاتی نیٹ ورکنگ کرنے کے علاوہ مرکز کے کارکنوں کو باقاعدہ اس کام کی تربیت دی گئی تاکہ شادی اور ازدواج میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کے علاوہ شادیوں کی تعداد میں اضافہ اور طلاق کی شرح کو کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوسکیں۔

 حرم امام رضا(ع) کے خادموں میں آٹھ ہزار خواتین شامل ہیں

روضہ منورہ امام رضا علیہ السلام کی زیارت سے مشرف ہونے والے زائرین کی راہنمائی اور منیجمنٹ کے لئے محتاط منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ زائرین سکون سے زیارت کر سکیں،اعداد و شمار کے مطابق حرم امام رضا علیہ السلام کے پچاس فیصد سے زائد زائرین بچے اور خواتین ہیں ،خاص طور پر حرم میں واقع خواتین ہالز میں خواتین، مردوں کی نسبت زیادہ دیر تک رہتی ہیں جس کی وجہ سے ان کو بھی مناسب خدمات فراہم کرنے کے لئے خواتین خادموں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ نظم و ضبط،امنیت اور رفت وآمد کی سہولیات فراہم کی جا سکیں ،ان کاموں کے لئے حرم امام رضا(ع) کے خواتین ہالز میں ۸۰۰۰ خواتین مختلف شفٹوں کی صورت میں فرائض انجام دیتی ہیں ،خدمت کے فرائض انجام دینے والی ان خواتین کی اوسط عمر۲۰ سے ۵۰ سال کے درمیان ہوتی ہے ۔

 خواتین کے خصوصی خدماتی مراکز

مرکز برائے خواتین اور خاندانی امور کی تأسیس کے بعد۲۰۱۶ میں خواتین اور خاندان سے متعلق خصوصی خدماتی مراکز تشکیل دیئے گئے جنہوں نے ملک بھر میں خواتین اور خاندان سے متعلق مختلف سرگرمیاں شروع کیں،۲۰۱۷ میں ملک کے اندربہت تیزی سے خواتین کا نیٹ ورک تشکیل پایا۔خدمت کے مواقع فراہم ہونے اور ملک بھر میں مختلف موضوعات پر خواتین کے لئے خدمت کا نیٹ ورک قائم ہونے کے ساتھ ساتھ تمام صوبوں میں خواتین اور خاندانی امور سے متعلق متعدد خصوصی خدماتی مراکز تشکیل دیئے گئے ،خواتین کے خصوصی خدماتی مراکزکو دو شعبوں میں تقسیم کیا گیا؛’’رضوی خدماتی مراکز‘‘ اور’’شہیدوں کے فیملی مراکز‘‘،جن میں سے ہرایک مرکز نے بلند مدت اور قلیل مدت اہداف اور ایجنڈے کے تحت کام کرنا شروع کر دیا۔ ’’رضوی خدماتی مراکز‘‘خاندانی امور میں ایکٹو تنظیموں کے تعاون اور ان کی صلاحیتوں سے مستفید ہوتے ہوئے رضوی خاندانوں کو باہمی گفتگوکے پلیٹ فارمز کی تشکیل،منظم بنانے ،نیٹ ورکنگ ،مشاورت اور تعلیمی خدمات فراہم کرتے ہیں۔

 علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی میں انقلابی خواتین کی علمی تربیت

ممتاز اور لائق خواتین کو اسلامی اور انسانی علوم کے میدان میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرنے کے لئے۲۰۱۸ کے دوران آستان قدس رضوی کے متولی کے تعاون سے یونیورسٹی میں خواہران کے لئے اعلیٰ تعلیم کا سلسلہ شروع کیا گیا،۲۰۱۸ کے دوران پی ایچ ڈی کے لئے تین سبجیکٹس ؛ حقوق و علوم قرآن،حدیث و فلسفہ اور کلام اسلامی میں مشہد اور قم میں امتحانات منعقد کئے گئے،جن میں ۲۱۶ خواتین نے شرکت کی،تحریری امتحان پاس کرنے والی۳۷ خواتین میں سے ۱۴ خواتین کو ڈاکٹریٹ کے لئے یونیورسٹی میں داخلہ دیا گیا۔

 انٹرنیشنل یونیورسٹی امام رضا(ع) میں ۶۰۰۰ طالبات تحصیل علم میں مشغول

اس وقت انٹرنیشنل یونیورسٹی امام رضا(ع) کا خواہران یونٹ گذشتہ ایک دہائی کی تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں کی وجہ سے دیگر یونیورسٹیوں کے کیمپسز کے مقابلے میں ایک موزوں ثقافتی اور تعلیمی مرکز ہے جو روز بروز ترقی کی راہ پر گامزن ہے ، یہ یونیورسٹی ملک میں تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے،مومن،با صلاحیت اور انقلابی خواتین کی علمی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں کامیاب رہی ہے،فی الحال ۶۰ مختلف شعبوں میں بیچلرز،ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی سطح پر ۶۰۰۰ سے زائد طالبات تعلیم حاصل کر رہی ہیں، تعلیم کے حصول میں دلچسپی رکھنے والی بہت ساری بچیاں یہ چاہتی ہیں کہ وہ ایک ایسے آرام دہ،علمی اور تربیتی ماحول میں علم حاصل کریں جہاں علم کے حصول کے ساتھ روح کا بھی تزکیہ کر سکیں ۔

 ’’دختر ماہ‘‘کے زیراہتمام جشن ھای تکلیف کاانعقاد

۹ سال مکمل ہونے پر بچیوں کو عبادات سکھانے کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے ،ان تقریبات کو جشن تکلیف کا نام دیا جاتا ہے ،ہر سال مختلف اداروں جیسے وزارت تعلیم،ریلیف کمیٹی اور بلدیہ وغیرہ کی جانب سے ان بچیوں کے لئے مختلف پروگرامز اور تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے ،آستان قدس رضوی جو کہ ثقافتی پروگراموں کے انعقاد اور علم و معرفت میں اضافے سے متعلق اہم کردار ادا کرتا ہے وہ بھی اس مسئلے میں پیچھے نہیں ہے ، کرامت رضوی فاؤنڈیشن کے مرکز برائے خواتین و خاندانی امورکا ’’دخترماہ‘‘ پراجیکٹ،۹ سال کی بچیوں کے جشن عبادت اور جشن تکلیف کے انعقاد کا کام انجام دیتا ہے یہ پراجیکٹ ۲۰۱۹ میں شروع کیا گیا اوراب تک ملک بھر کی ۸۰۰۰ سے زیادہ بچیاں اس منصوبے سے مستفید ہو چکی ہیں ،نیز ۲۰۲۳ میں ملک کی ریلیف امداد کمیٹی کے تعاون سے ۲۰۰۰۰ بچیاں اس پروجیکٹ سے مستفید ہوں گی۔

 گم ہونے والے افراد کی راہنمائی کے لئے۹ دفاتر چوبیس گھنٹے سرگرم عمل

وہ افراد جو حرم امام رضا(ع) میں گم ہو جاتے ہیں ان کی صحیح راہنمائی کے لئے حرم امام رضا علیہ السلام کے ادارہ خدمات زائرین کے تحت۹ دفاتر دن رات خدمات فراہم کرتے ہیں ،اس وقت یہ ۹ دفاتر حرم امام رضا علیہ السلام کے صحن انقلاب اسلامی، صحن آزادی، صحن کوثر،صحن مسجد گوہر شاد، رواق دارالحجہ،رواق حضرت زہراء(س)،شیخ طوسی،شیخ طبرسی اور باب الرضا(ع) پر واقع ہیں ۔ان دفاتر میں تقریباً۱۷۰۰ خواتین مختلف شفٹوں کی صورت میں چوبیس گھنٹے گم ہونے والے افراد کی راہنمائی کے لئے موجود رہتی ہیں،اس کے علاوہ یہ تمام دفاتر ایک نیٹ ورک سے منسلک سسٹمز کے ذریعہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ،گمشدہ افراد اپنے رشتہ داروں یا ساتھیوں کے لئے ان دفاتر میں پیغام اندراج کروا سکتے ہیں یا اپنے عزیز و اقارب کو فون کال کر سکتے ہیں اور اسی طرح اپنے موبائل فون بھی ان دفاتر میں چارج کر سکتے ہیں ، ان ۹ دفاتر میں سے ۵ دفاتر ایسے ہیں جہاں مذکورہ خدمات کے علاوہ ماں اور بچے کو خصوصی خدمات دی جاتی ہیں ،جن میں آرام کرنا،بچے کو دودھ پلانا،بچے کے کپڑے یا پیمپرز وغیرہ تبدیل کرنا شامل ہیں ،اس طرح کی خدمات فی الحال صحن انقلاب اسلامی، صحن آزادی، صحن کوثر،شیخ طوسی اور باب الرضا(ع) پر واقع دفاتر میں فراہم کی
جاتی ہیں۔

 بچوں کے لئے خصوصی ہال

حرم امام رضا علیہ السلام سے وابستہ مجموعہ آستان قدس رضوی کے متولی حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی، بچوں کے لئے خصوصی ہال بنانے کے لئے بہت زیادہ تاکید کرتے تھے ، ان کی تاکیدات کو مدّ نظر رکھتے ہوئے حرم امام رضا علیہ السلام کے باب الکاظم پر ’’رواق کودک‘‘ کے عنوان سے بچوں کے لئے خصوصی ہال بنایا گیا ،اس ہال کے دو حصے ہیں ایک حصہ تین سے پانچ سال کے بچوں کے لئے ہے اور دوسرا حصہ پانچ سے نو سال کی عمر کے بچوں کے لئے بنایا گیا ہے ان دونوں حصوں میں بچوں کے لئے کھیل،پینٹنگ،سینما اور داستان وغیرہ بیان کرنے کے مختلف سیکشن بنائے گئے ہیں،سینما میں اہلبیت(ع) کے مختلف قصے خاص طور پر حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے واقعات کو بچوں کے انداز میں بیان کیا جاتا ہے ،کھیل کے سیکشن میں مختلف دینی مفاہیم کے علاوہ صحیح اور غلط رفتار کو کھیل کے ذریعہ بچوں کو سکھایا جاتا ہے ۔ اس حصے میں حرم امام جواد علیہ السلام کے مزار اور گنبد مطہر کو اسلامی فنون کی مدد سے بنایا گیا ہے ،اس ہال میں بچوں کے لئے اور بھی بہت سارے پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔

نذر امام رضا(ع) کے ذریعہ ۲۲۲ ماؤں کی جیل سے رہائی

کرامت رضوی فاؤنڈیشن کے مرکز برائے خواتین و خاندانی امورکی کاوشوں سے ’’نذر امام رضا(ع)‘‘ مہم کے ذریعہ ستمبر۲۰۲۱ سے دسمبر۲۰۲۳ تک ملک بھر میں ۷۵۳ غیر ارادی مالی جرائم کے قیدیوں کو رہائی دلوائی گئی ہے جن میں ۵۳۱ قیدی باپ اور۲۲۲ قیدی مائیں تھیں۔اس مہم کے لئے ’’دیت کمیٹی‘‘ کے توسط سے ۵۷ بلین تومان،دیگر اداروں اور تنظیموں کے توسط سے ۹۶ بلین تومان اور آستان قدس رضوی کے توسط سے ۳۲ بلین تومان اکھٹے کئے گئے۔

 خواتین کے لئے کاروباری مواقع فراہم کرنا

اس منصوبے کے تحت مشہد مقدس کے مضافات میں رہنے والی ۲۰۰۰ خواتین کو ۴ حصوں میں درجہ بندی کیا گیا ہے اور ہر حصے کےلئے انجام دیئے جانے والے اقدامات کی وضاحت کی گئی ہے ،پہلے حصے میں وہ خواتین ہیں جو کاروبار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں،انہیں کاروبار کی طرف راغب کرنے کے لئے تشویقی اقدامات بیان کئے گئے ہیں ، دوسرے حصے میں وہ خواتین ہیں جو اپنے ہنر سے خود بھی آگاہ نہیں ہیں انہیں ان کی مہارت اور ہنر سے آگاہی دلانے کا ذکر کیا گیا ہے، تیسرے مرحلے میں وہ خواتین شامل ہیں جنہوں نے چھوٹے پیمانے پر کام شروع کئے لیکن انہیں بڑے پیمانے پر فروغ نہیں دے پائیں،ان خواتین کو کاروبار بڑھانے کے مشورے دیئے جاتے ہیں،چوتھے حصے میں وہ خواتین شامل ہیں جو باقاعدہ پیشہ ور اور کاروباری ہیں ان کے ساتھ خاندان کے وقار اور خواتین کے تحفظ سے متعلق بات چیت کی جاتی ہے اور یہ چھوتھی قسم کی خواتین پہلی تین قسم کی خواتین کو اپنے کاروبار بڑھانے میں مدد کرتی ہیں،یہ منصوبہ قومی سطح پر منعقد کیا جا رہا ہے ،صوبائی سطح پر اس کا نفاذ خواتین اور خاندانی خدماتی مراکز کے ذریعہ کیا جاتا ہے جس کا نتیجہ مختلف نمائشوں کی صورت میں سامنے آیا ہے ۔اب تک خواتین کے منصوبوں کے لئے ۷ بار مختلف ایکسپو کا انعقاد کیا جا چکا ہے تاکہ خواتین اپنی اپنی مصنوعات کو ان کے ذریعہ پیش کر سکیں ،ایکسپو کا آٹھواں دورہ ۳۱ صوبوں کے تعاون سے قومی سطح پرمنعقد کیا جائے گا جس میں ۱۵۰ ایسی کاروباری خواتین جنہوں نے یا خود کاروبار شروع کیا یا دوسری خواتین کے لئے کاروباری مواقع فراہم کئے ہیں شرکت کریں گی۔

 طالبات کی تربیت

رضوی کلچرل فاؤنڈیشن؛آستان قدس رضوی کے تعلیمی و ثقافتی ادارہ کا حصہ ہے جوامام رضا(ع) اسکولوں کی لیڈنگ کرنے کے ساتھ تین دہائیوں سے مومن، باتجربہ،ہنرمند اور انقلابی انسانوں کی تعلیم و تربیت کے فرائض انجام دے رہی ہے ،رضوی کلچرل فاؤنڈیشن کے مشہد مقدس ،چناران اور سرخس میں بچیوں کے لئے پرائمری سے لے کر ہائی اسکولز تک کے ۷ تعلیمی کیمپس ہیں یہ کیمپس ۲۲ ہزار۵۰۰ مربع میٹر رقبے پر بنائے گئے ہیں جن میں ہر قسم کی ٹیکنکل ،تعلیمی اور کھیل سے متعلق سہولیات فراہم کی گئی ہیں ،ان میں ۸۴۰ ایگزیکٹو اسٹاف اور۵۳۲ تجربہ کار اور ماہر اساتذہ ۲۵۶۸ طالبات کو تعلیم و تربیت سے مستفید فرما رہے ہیں۔ اسلامی آداب اور تربیت سکھانا اورانقلاب اسلامی کی اقدارپر یقین اور عزم کومضبوط بنانا جملہ اس فاؤنڈیشن کی ترجیحات ہیں۔

 رضوی میوزیم میں خواتین کھلاڑیوں کے تمغے

خواتین کے ایشیائی اور عالمی کھیلوں کے مقابلوں میں ایرانی کھیلوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ان مقابلوں میں تمغے جیتنا کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ،کھیل کےمیدان میں سرمایہ کاری پہلے کی نسبت بہتر شکل اختیار کر چکی ہے اور ترقی کے راستے پر گامزن ہونے کے ساتھ خواتین کھلاڑیوں کی اعلیٰ صلاحیتوں کو اجاگر کیا جا رہا ہے ، کئی برسوں سے ملک کے ہیروزکھیل کے میدان میں اسلامی جمہوریہ ایران کا مقدس پرچم لہرانے اور چیمپئن شپ جیتنے کے بعد اپنے تمغے حرم امام رضا(ع) کے میوزیم کو تحفے کے طور پر پیش کر رہے ہیں،اسی تسلسل میں چند خواتین قومی کھلاڑیوں نے بھی اپنے ایشیائی اور عالمی تمغوں کو اس میوزیم کے لئے ہدیہ کیااور انہوں نے اپنے اس اقدام سے یہ واضح کر دیا کہ ایرانی خواتین کھلاڑیوں میں بھی پہلوانی اور بہادری کا جذبہ پایا جاتا ہے ۔

 حرم امام رضا(ع) میں عطیات و نذورات کے دفاتر

انقلاب اسلامی کی فتح کے بعد سے آستان قدس رضوی کا ادارہ نذورات و عطیات براہ راست آستان قدس رضوی کو زائرین کی جانب سے دیئے جانے والے عطیات اورنذورات پر نگرانی کرتا ہے اور اسی طرح عطیات و نذورات کے دفاتر اور حتی ضریح مطہر امام رضا(ع) میں موجود عطیات کو اکھٹا کرکے حرم امام رضا علیہ السلام کے متولی کے کہنے پر خرچ کرتا ہے ۔۲۰۱۸ میں ہونے والی بنیادی تبدیلیوں کے بعد’’نذورات و عطیات‘‘،’’موقوفات‘‘ اور خزانے کو ’’نذورات و موقوفات پر نگران مرکز‘‘ کے زیر انتظام یکجا کر دیا گیا اور اس موجودہ دور میں آستان قدس رضوی کا ادارہ اوقاف منیجمنٹ ان سے علیحدہ ہو کر خدمات انجام دے رہا ہے ۔

 ماہانہ ایک ہزار خواتین کھلاڑیوں کو راغب کرنا

خصوصی طور پر خواتین کے لئے بنائے گئے انفراسٹرکچر میں سے ایک واٹر کمپلیکس ہے ،خواتین کے لئے بنایا گیا انڈور سوئمنگ پول دوحصوں یعنی ٹریننگ اور چیمپئن شپ میں شرکت کرنے والوں کے لئے ہے جس میں ڈرائی بھاپ،سٹیم بھاپ،دو عدد جاکوزی پول،ٹھنڈے پانی کا ایک پول،ایک مساج روم اور ایک باڈی بلڈنگ روم بنایا گیا ہے،اس کے علاوہ اس کمپلیکس میں ایک نماز خانہ،کیفےٹیریا اورسوئمنگ پول کے پانی کو چیک کرنے کی مستقل لیبارٹری موجود ہے ۔

اسی طرح جو خواتین ٹینس،والی بال،باسکٹ بال، تیراندازی،فرزیکل فٹنس یا دیگر کھیلوں میں دلچسپی رکھتی ہیں وہ اس کمپلیکس کے دوبڑے ہالز میں ہونے والی تعلیمی کلاسزز میں حصہ لے سکتی ہیں اور کسی بھی ایک کھیل میں خصوصی تربیت حاصل کر سکتی ہیں۔چونکہ موجودہ معاشرے میں خاندان کی صحت کو برقرار رکھنے میں خواتین کا کردار بہت اہم ہے اس لئے یہ ادارہ ہر ماہ اوسطاً ۱۰۰۰ خواتین کو ورزش کی طرف راغب کرتا ہے ۔

 حضرت امام رضا(ع) کی نورانی بارگاہ کے لئے خواتین کی ۵۰۰ سالہ موقوفات

وقف بھی ان موضوعات میں سے ایک ہے جس نے ایرانی خواتین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ہے،ایرانی خواتین نے وقف کو ایک سنت حسنہ کی بنیاد پر قبول کرتے ہوئے لبیک کہا ہے ،جب ہم آستان قدس رضوی کی موقوفاتی دستاویزات کو دیکھتے ہیں تو ان میں ۸۰ سے زائد ایرانی خواتین کا تذکرہ ملتا ہے جنہوں نے خلوص دل کے ساتھ اپنے تمام اثاثوں اور جائیداد کو حرم امام رضا علیہ السلام کے لئے وقف کر دیا۔خواتین کی جانب سے وقف کرنے کی تاریخ۹ویں صدی ہجری سے شروع ہوتی ہے اس دوران بہت سی نیک خواتین نےاپنے جائیدادیں اور اثاثے وقف کئے اور اپنی موقوفات کو مختلف جگہوں اور مختلف مقاصد سے استعمال کرنے کے لئے وقف کیا،حرم امام رضا علیہ السلام کی نورانی بارگاہ کے لئے زیادہ تر غیرمنقولہ جائیدادیں وقف کی گئیں جن میں زمینیں،باغات،دوکانیں اورگھر وغیرہ شامل ہیں اور حالیہ چند برسوں کے دوران اس مجموعہ میں آپارٹمنٹس کا بھی اضافہ ہوا ہے ۔

 
۱۰ صفحه آخر