عناوین صفحه
مطالب برگزیده
رواق خدمت”دینی تبلیغ”
’’دین کی تبلیغ‘‘س متعلق استان قدس رضوی کی سرگرمیو اور اقدامات کا مختصر جائز
کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ قومی اور بین الاقوامی قاریوں کی موجودگی میں تلاوت قرآن کی محافل بھی منعقد کی جاتی ہیں۔ اسی طرح بچوں اور نوجوانوں کو قرآن اور اہلبیت(ع) کی تعلیمات سے روشناس کرانے کے لئے بھی خصوصی قرآنی محافل کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
اجتماعی عبادت کا ایک اورمظہر اعتکاف ہے۔ یہ روحانی مراسم ماہ رجب المرجب کے ایّام البیض اور ماہ مبارک رمضان کے آخری عشرے میں منعقد کئے جاتے ہیں۔ اعتکاف کا یہ روحانی عمل حرم امام علیرضا (ع) کی مسجد گوہر شاد میں منعقد ہوتاہے جس میں ملک بھر سے ہزاروں کی تعداد میں معتکفین شرکت کرتے ہیں۔
اعتکاف، حرم مطہر کی قدسی اور پاکیزہ فضا میں چند دن گزارنے، اللہ کے ساتھ خلوت میں مناجات اور دینی اقدار کے ساتھ تجدید عہد کرنے کا بہترین موقع ہے۔
اعتکاف کے لئے آنلائن رجسٹریشن کروانے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عصر حاضر میں بھی معاشرے میں اعتکاف خاص اہمیت کا حامل ہے۔
روزمرّہ کے عبادی اعمال و مناسک کے ساتھ ساتھ حرم امام علیرضا (ع) میں چند روایتی مراسم بھی منعقد کئے جاتے ہیں جوصدیوں سے حرم مطہر کی تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک نقارہ بجانے کی روایتی رسم ہے۔ ائمہ معصومین علیہم السلام کے ایّام ولادت اورصبح اور مغرب کے وقت نقارے بجائے جاتے ہیں، البتہ عزاداری اور سوگ کے ایّام میں احتراماً نقارے نہیں بجائے جاتے۔
حرم امام علیرضا (ع) میں نکاح کی تقاریب کا انعقاد بھی شیعوں کی ایک پرانی اور پسندیدہ رسم ہے۔ نئے شادی شدہ جوان جوڑے اپنی مشترکہ زندگی کا آغاز امام علیرضا (ع) سے توسل کے ساتھ کرتے ہیں۔ حالیہ چند سالوں میں رواق دارالحجہ کو اسی کام کے لئے مختص کر دیا گیا ہے۔ اس وقت نکاح کی تقریب حرم مطہر کے مقبول سماجی پروگراموں میں سے ایک ہے، ایسی رسم جو زمینی محبت کو آسمانی روحانیت سے جوڑتی ہے۔
فن کے ساتھ دین کی تبلیغ انجام دینا
آمده ام. آمدم ای شاه پناهم بده...(آیا ہوں۔اے شاہ آیا ہوں پناہ دیجئے۔۔۔)یہ شعر اور یہ منقبت ایک الگ ہی انداز سے دل کو چھوتی ہے اور حرم امام علیرضا (ع) کی روحانی فضا کے ساتھ دلوں کو جوڑتی ہے۔
فن اور آرٹ کا یہی کام ہے کہ خوبصورت اور قابل فہم زبان کے ذریعے ایک پیغام کو سب تک پہنچائے، جسے بغیر فن کے منتقل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ فن دینی مفاہیم کو زیادہ پائیدار اور مؤثر بنا دیتا ہے۔ فن رضوی ثقافت کو فروغ دینے کا بہترین وسیلہ ہے۔ فن کے ذریعے دین کا عقلی اور منطقی نقطہ نظر ہمیشہ کے لئے باقی رہ جاتا ہے۔
حالیہ برسوں میں آستان قدس رضوی نے فن کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے حرم امام علیرضا (ع) میں دین کی تبلیغ و ترویج کے لئے فن کے استعمال پر خاص توجہ دی ہے۔ اگر شعر وادب سے دل نرم ہوتے ہیں تو دینی ترانے،روایتی نمائشیں اور آواز و تصویر ، ایمان کو زائرین کے دلوں میں نقش کر سکتے ہیں۔
حرم امام علیرضا (ع) کے صحنوں اور رواقوں میں نوجوانوں اور جوانوں کے منقبتوں، مذہبی ترانے پڑھنے والے گروپس، فنکاروں کی شمولیت اور روایتی نمائشوں کے انعقاد سے حرم کے روحانی ورثے کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ ان پروگراموں سے واضح ہوجاتا ہے کہ حرم فقط دعا و مناجات سے مخصوص نہیں ہے بلکہ دینی فن کا ایک بہت بڑا مرکز ہے۔
عشرہ کرامت کی طرح مختلف مناسبتوں پر ملک بھر سے منقبتیں اور دینی ترانے پڑھنے والے گروپس حرم امام علیرضا (ع) میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے آتے ہیں، حتی بین الاقوامی گروپس بھی ان مناسبتوں پر حرم امام علیرضا (ع) میں حاضر ہوتے ہیں۔ نورالہدیٰ،انتظار،اسوہ،ودیعہ المصطفی اور کئی دیگر گروپس حرم امام علیرضا (ع) کے رواق امام خمینی(رہ)، دارالقرآن، ایوان مقصورہ، رواق دارالحجہ وغیرہ میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
منقبتوں اور دینی ترانوں کے علاوہ روایتی نمائشیں بھی حرم مطہر کی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ”قصیدہ ابدی” جیسی نمائش جو عشرہ کرامت کے ایّام میں آستان قدس رضوی کے کانفرنس ہال میں منعقد کی گئی ؛شعر،پرفارمنس اور دینی داستان کا مجموعہ تھی۔”نما شعر مصور رضوی” بھی ایک اور نمائش تھی جو رواق امام خمینی(رہ) میں منعقد کی گئی۔یہ نمائش بھی شعر،تصویر اور پرفارمنس کا مجموعہ تھی جس میں روایتی رسومات کو میڈیا کی چند زبانوں میں بیان کیا گیا۔
مشہد مقدس میں حرم امام علیرضا (ع) ایک ثقافتی،روحانی اور سماجی مرکز ہے جو روزانہ ہزاروں زائرین و مجاورین کی روز مرّہ زندگی پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اس مقدس مقام پر مذہبی رسومات منصوبہ بندی کے ساتھ اور منظم انداز میں انجام دی جاتی ہیں۔ مجموعی طور پر حرم امام علیرضا (ع) کی تمام روایتی رسومات اور مناسک شیعوں کے عقائد،تاریخ اور ثقافتی شناخت کی ایک مکمل تصویرپیش کرتے ہیں۔ یہ اقدامات محض مذہبی اعمال نہیں ہیں بلکہ ایک روحانی تجربہ ہے جس سے زائرین کا تعلق امامہشتم (ع) سے مزید مستحکم ہوتا ہے اور انہیں روحانی زندگی کے راستے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
ان منظم سرگرمیوں کے اس مجموعے نے حرم امام علیرضا (ع) کو دنیائے تشیع کے دھڑکتے ہوئے دل میں تبدیل کر دیا ہے۔
اجتماعی عبادت کا ایک اورمظہر اعتکاف ہے۔ یہ روحانی مراسم ماہ رجب المرجب کے ایّام البیض اور ماہ مبارک رمضان کے آخری عشرے میں منعقد کئے جاتے ہیں۔ اعتکاف کا یہ روحانی عمل حرم امام علیرضا (ع) کی مسجد گوہر شاد میں منعقد ہوتاہے جس میں ملک بھر سے ہزاروں کی تعداد میں معتکفین شرکت کرتے ہیں۔
اعتکاف، حرم مطہر کی قدسی اور پاکیزہ فضا میں چند دن گزارنے، اللہ کے ساتھ خلوت میں مناجات اور دینی اقدار کے ساتھ تجدید عہد کرنے کا بہترین موقع ہے۔
اعتکاف کے لئے آنلائن رجسٹریشن کروانے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عصر حاضر میں بھی معاشرے میں اعتکاف خاص اہمیت کا حامل ہے۔
روزمرّہ کے عبادی اعمال و مناسک کے ساتھ ساتھ حرم امام علیرضا (ع) میں چند روایتی مراسم بھی منعقد کئے جاتے ہیں جوصدیوں سے حرم مطہر کی تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک نقارہ بجانے کی روایتی رسم ہے۔ ائمہ معصومین علیہم السلام کے ایّام ولادت اورصبح اور مغرب کے وقت نقارے بجائے جاتے ہیں، البتہ عزاداری اور سوگ کے ایّام میں احتراماً نقارے نہیں بجائے جاتے۔
حرم امام علیرضا (ع) میں نکاح کی تقاریب کا انعقاد بھی شیعوں کی ایک پرانی اور پسندیدہ رسم ہے۔ نئے شادی شدہ جوان جوڑے اپنی مشترکہ زندگی کا آغاز امام علیرضا (ع) سے توسل کے ساتھ کرتے ہیں۔ حالیہ چند سالوں میں رواق دارالحجہ کو اسی کام کے لئے مختص کر دیا گیا ہے۔ اس وقت نکاح کی تقریب حرم مطہر کے مقبول سماجی پروگراموں میں سے ایک ہے، ایسی رسم جو زمینی محبت کو آسمانی روحانیت سے جوڑتی ہے۔
فن کے ساتھ دین کی تبلیغ انجام دینا
آمده ام. آمدم ای شاه پناهم بده...(آیا ہوں۔اے شاہ آیا ہوں پناہ دیجئے۔۔۔)یہ شعر اور یہ منقبت ایک الگ ہی انداز سے دل کو چھوتی ہے اور حرم امام علیرضا (ع) کی روحانی فضا کے ساتھ دلوں کو جوڑتی ہے۔
فن اور آرٹ کا یہی کام ہے کہ خوبصورت اور قابل فہم زبان کے ذریعے ایک پیغام کو سب تک پہنچائے، جسے بغیر فن کے منتقل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ فن دینی مفاہیم کو زیادہ پائیدار اور مؤثر بنا دیتا ہے۔ فن رضوی ثقافت کو فروغ دینے کا بہترین وسیلہ ہے۔ فن کے ذریعے دین کا عقلی اور منطقی نقطہ نظر ہمیشہ کے لئے باقی رہ جاتا ہے۔
حالیہ برسوں میں آستان قدس رضوی نے فن کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے حرم امام علیرضا (ع) میں دین کی تبلیغ و ترویج کے لئے فن کے استعمال پر خاص توجہ دی ہے۔ اگر شعر وادب سے دل نرم ہوتے ہیں تو دینی ترانے،روایتی نمائشیں اور آواز و تصویر ، ایمان کو زائرین کے دلوں میں نقش کر سکتے ہیں۔
حرم امام علیرضا (ع) کے صحنوں اور رواقوں میں نوجوانوں اور جوانوں کے منقبتوں، مذہبی ترانے پڑھنے والے گروپس، فنکاروں کی شمولیت اور روایتی نمائشوں کے انعقاد سے حرم کے روحانی ورثے کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ ان پروگراموں سے واضح ہوجاتا ہے کہ حرم فقط دعا و مناجات سے مخصوص نہیں ہے بلکہ دینی فن کا ایک بہت بڑا مرکز ہے۔
عشرہ کرامت کی طرح مختلف مناسبتوں پر ملک بھر سے منقبتیں اور دینی ترانے پڑھنے والے گروپس حرم امام علیرضا (ع) میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے آتے ہیں، حتی بین الاقوامی گروپس بھی ان مناسبتوں پر حرم امام علیرضا (ع) میں حاضر ہوتے ہیں۔ نورالہدیٰ،انتظار،اسوہ،ودیعہ المصطفی اور کئی دیگر گروپس حرم امام علیرضا (ع) کے رواق امام خمینی(رہ)، دارالقرآن، ایوان مقصورہ، رواق دارالحجہ وغیرہ میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
منقبتوں اور دینی ترانوں کے علاوہ روایتی نمائشیں بھی حرم مطہر کی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ”قصیدہ ابدی” جیسی نمائش جو عشرہ کرامت کے ایّام میں آستان قدس رضوی کے کانفرنس ہال میں منعقد کی گئی ؛شعر،پرفارمنس اور دینی داستان کا مجموعہ تھی۔”نما شعر مصور رضوی” بھی ایک اور نمائش تھی جو رواق امام خمینی(رہ) میں منعقد کی گئی۔یہ نمائش بھی شعر،تصویر اور پرفارمنس کا مجموعہ تھی جس میں روایتی رسومات کو میڈیا کی چند زبانوں میں بیان کیا گیا۔
مشہد مقدس میں حرم امام علیرضا (ع) ایک ثقافتی،روحانی اور سماجی مرکز ہے جو روزانہ ہزاروں زائرین و مجاورین کی روز مرّہ زندگی پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اس مقدس مقام پر مذہبی رسومات منصوبہ بندی کے ساتھ اور منظم انداز میں انجام دی جاتی ہیں۔ مجموعی طور پر حرم امام علیرضا (ع) کی تمام روایتی رسومات اور مناسک شیعوں کے عقائد،تاریخ اور ثقافتی شناخت کی ایک مکمل تصویرپیش کرتے ہیں۔ یہ اقدامات محض مذہبی اعمال نہیں ہیں بلکہ ایک روحانی تجربہ ہے جس سے زائرین کا تعلق امامہشتم (ع) سے مزید مستحکم ہوتا ہے اور انہیں روحانی زندگی کے راستے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
ان منظم سرگرمیوں کے اس مجموعے نے حرم امام علیرضا (ع) کو دنیائے تشیع کے دھڑکتے ہوئے دل میں تبدیل کر دیا ہے۔
10 صفحه آخر







