عناوین صفحه
مطالب برگزیده
رواق خدمت”دینی تبلیغ”
’’دین کی تبلیغ‘‘س متعلق استان قدس رضوی کی سرگرمیو اور اقدامات کا مختصر جائز
تجربہ ہے جس سے زندگی کو سنوارا جائے۔ آستان قدس رضوی کے خادمین جانتے ہیں کہ علم اور مہارت سے خالی گفتگو کبھی بھی مؤثر واقع نہیں ہوتی،اسی لئے اس مرکز کی تبلیغی سرگرمیوں کا محور تعلیم پر ہے۔ حالیہ چند برسوں میں مبلغین، مکبرین، ائمہ جماعت اور خادمین کے لئے ایک منظم تعلیمی نظام تیار کیا گیا ہے جو صرف علم دین کی منتقلی پر مشتمل نہیں ہے بلکہ مواصلاتی مہارتوں،زائرین کی نفسیات،تبلیغ کے نئے طریقوں اور غیرملکی زائرین سے بات چیت کے لئے بین الاقوامی زبانوں کو سیکھنے پر مشتمل ہے۔
تبلیغی مواد کے لئے خصوصی تربیتی کلاسز منعقد کی جاتی ہیں تاکہ مبلغین نئی نسل کی ضرورت کے مطابق خود کوتیار کرسکیں، ایسی نئی نسل جو آج کے تیز رفتار میڈیا سے تعلق رکھتی ہے اور عقل و منطق پر توجہ دیتی ہے۔
علمی اور حوزوی مراکز کے ساتھ تعاون،گفتگو پر مبنی ورکشاپس کا انعقاد اور سماعت پر مبنی تعلیم جس میں صرف اپنی گفتگو کے بجائے سامنے والے کو سنا جاتا ہے جو تبلیغ میں یہ ایک نہایت مؤثر طریقہ ہے۔مکبرین، قاریان قرآن اور ذاکرین اہلبیت کو آواز اور لہجے کو بہتر بنانے کی تعلیم دی جاتی ہے اس کے علاوہ فن بیان سکھایا جاتا ہے اور حرم میں روحانی طریقے سے حاضر ہونے کے آداب بتائے جاتے ہیں۔ ان تمام اقدامات کے ذریعہ مراسم کو یقینی طور پر مؤثر بنایا جاتا ہے۔
ثقافتی معلومات اور دیگر زبانوں پر مہارت کے سبب مبلغین بین الاقوامی سطح پر غیرملکی زائرین کے ساتھ مؤثر رابطہ برقرار کر پاتے ہیں۔ یہ تمام اقدامات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ آستان قدس رضوی میں دین کی تبلیغ کسی خاص سرحد تک محدود نہیں ہے ۔
حرم امام علی رضا (ع) میں پُرمغز تقاریر کے لئے موضوعات کا انتخاب ایک منظم فریم ورک اور تحقیق پر مشتمل ہے۔اس نظام کے چار مراحل ہیں:دستاویزات اور ڈیٹا سے موضوعات دریافت کرنا،ماہرین کی جانب سے ان موضوعات کا تجزیہ،مسائل کی اہمیت اور مختلف مناسبتوں کو ملحوظ رکھنا اورپورے سال کی تقویم میں ان موضوعات کو قرار دینا۔
ہرمحتوا کا فریم ورک ؛ موضوع،بنیادی پیغام،زائرین کے سوالات،محتوا کی وضاحت، دستاویزات اور مطالعاتی حوالہ جات پر مشتمل ہوتا ہے تاکہ تقریر مستند،سوال و جواب پر مبنی ہونے کے ساتھ مستدل اور منطقی ہو،اب تک تقریباً۲۷۰ محتوائی فریم ورک موجود ہیں جن میں ۸۰۰ سے زیادہ قرآنی آیات، ۸۰۰ سے زیادہ احادیث و روایات اور چار سو سوال شامل ہیں۔
سسٹم سے حاصل ہونے والے سروے اور تجاویز، شکوک و شبہات کا جواب دینے اور مواد کے معیار کی نگرانی کو یقینی بنانے نیز تقریر کو ایک تحقیقی فریم ورک فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
حرم امام علی رضا (ع) کے مکبرین کا کردار تربیتی اور روحانی ہوتا ہے، اس لئے ان کا انتخاب ان کی اخلاقی صلاحیتوں، قرآن کی صحیح قرائت اور لہجے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے،۲۰۱۷ سے ۱۲ سے ۱۸ سال کی عمر کے نوجوان بھی اس مجموعے کا حصہ بنے ہیں۔ ان مکبرین کا شفٹ سسٹم،نماز کے اوقات کے مطابق ہے اور اس کام کے لئے مستقل طور پر آواز اور قرآنی صوت و لحن کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ نماز جماعت میں روحانیت و معنویت کی فضا برقرار کی جا سکے۔
عصری علوم اور رضوی تعلیمات
“امام علی رضا (ع) اور عصری علوم” پر چار بین الاقوامی کانفرنسز کا انعقاد کیا جاچکا ہے جن کے ذریعہ۱۶۰۰ سے زائد علمی مقالات موصول ہوئے۔یہ کانفرنسز جدید عصری علوم اور مذہبی تعلیمات کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کی علامت ہیں۔ان کانفرنسوں میں ملکی اور غیرملکی دانشوروں اور محققین کی شرکت نے عالمی سطح پر رضوی سیرت اور طرز زندگی کو متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیااور یونیورسٹیوں کو علمی و ثقافتی ڈپلومیسی میں فعال کردار ادا کرنے والے مراکز میں تبدیل کر دیاہے۔
امام علی رضا (ع) یونیورسٹی کے ساتھ علوم اسلامیِ رضوی یونیورسٹی نے دینی اور حوزوی بنیادوں پر تکیہ کرتے ہوئے دین کی تبلیغ کے لئے نئے راستے کھولے ہیں۔
تبلیغ کے خصوصی مرکز کی تأسیس،”تبلیغ اور دینی کمیونیکیشن”سبجیکٹ کو شروع کرنا، فن و ہنر کی تعلیم اور عملی تحقیق پر توجہ دینے جیسے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یونیورسٹی عالمی سطح پر دینی تبلیغ کے بارےمیں سوچتی ہے اور خود کو جدید اسلامی تہذیب سازی کے منصوبے کا حصہ سمجھتی ہے۔
دین کی تبلیغ میں جواب گو ہونا
روضہ منورہ امام علی رضا (ع) صرف ایک زیارتی مقام نہیں ہے بلکہ بہت سارے زائرین کے لئے یقین تک پہنچنے کا مقام ہے۔ اس نورانی بارگاہ میں ہر سوال کا جواب دیا جاتا ہے، گفتگو کے ذریعہ شکوک و شبہات زائل کئے جاتے ہیں۔ آستان قدس رضوی نے دین سے متعلق شکوک و شبہات کو دور کرنے کے عمل کو ایک سطحی اور وقتی جواب سے بڑھا کر ایک منظم ثقافتی اور تعلیمی نظام میں تبدیل کر دیا ہے۔
ان شکوک و شبہات کا جواب دینے کا ایک اہم راستہ “خصوصی نشستوں “ کا انعقاد ہے،ایسی نشستیں جو سالانہ تیس سے زیادہ سیمینارز پر مشتمل ہوتی ہیں جن
تبلیغی مواد کے لئے خصوصی تربیتی کلاسز منعقد کی جاتی ہیں تاکہ مبلغین نئی نسل کی ضرورت کے مطابق خود کوتیار کرسکیں، ایسی نئی نسل جو آج کے تیز رفتار میڈیا سے تعلق رکھتی ہے اور عقل و منطق پر توجہ دیتی ہے۔
علمی اور حوزوی مراکز کے ساتھ تعاون،گفتگو پر مبنی ورکشاپس کا انعقاد اور سماعت پر مبنی تعلیم جس میں صرف اپنی گفتگو کے بجائے سامنے والے کو سنا جاتا ہے جو تبلیغ میں یہ ایک نہایت مؤثر طریقہ ہے۔مکبرین، قاریان قرآن اور ذاکرین اہلبیت کو آواز اور لہجے کو بہتر بنانے کی تعلیم دی جاتی ہے اس کے علاوہ فن بیان سکھایا جاتا ہے اور حرم میں روحانی طریقے سے حاضر ہونے کے آداب بتائے جاتے ہیں۔ ان تمام اقدامات کے ذریعہ مراسم کو یقینی طور پر مؤثر بنایا جاتا ہے۔
ثقافتی معلومات اور دیگر زبانوں پر مہارت کے سبب مبلغین بین الاقوامی سطح پر غیرملکی زائرین کے ساتھ مؤثر رابطہ برقرار کر پاتے ہیں۔ یہ تمام اقدامات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ آستان قدس رضوی میں دین کی تبلیغ کسی خاص سرحد تک محدود نہیں ہے ۔
حرم امام علی رضا (ع) میں پُرمغز تقاریر کے لئے موضوعات کا انتخاب ایک منظم فریم ورک اور تحقیق پر مشتمل ہے۔اس نظام کے چار مراحل ہیں:دستاویزات اور ڈیٹا سے موضوعات دریافت کرنا،ماہرین کی جانب سے ان موضوعات کا تجزیہ،مسائل کی اہمیت اور مختلف مناسبتوں کو ملحوظ رکھنا اورپورے سال کی تقویم میں ان موضوعات کو قرار دینا۔
ہرمحتوا کا فریم ورک ؛ موضوع،بنیادی پیغام،زائرین کے سوالات،محتوا کی وضاحت، دستاویزات اور مطالعاتی حوالہ جات پر مشتمل ہوتا ہے تاکہ تقریر مستند،سوال و جواب پر مبنی ہونے کے ساتھ مستدل اور منطقی ہو،اب تک تقریباً۲۷۰ محتوائی فریم ورک موجود ہیں جن میں ۸۰۰ سے زیادہ قرآنی آیات، ۸۰۰ سے زیادہ احادیث و روایات اور چار سو سوال شامل ہیں۔
سسٹم سے حاصل ہونے والے سروے اور تجاویز، شکوک و شبہات کا جواب دینے اور مواد کے معیار کی نگرانی کو یقینی بنانے نیز تقریر کو ایک تحقیقی فریم ورک فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
حرم امام علی رضا (ع) کے مکبرین کا کردار تربیتی اور روحانی ہوتا ہے، اس لئے ان کا انتخاب ان کی اخلاقی صلاحیتوں، قرآن کی صحیح قرائت اور لہجے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے،۲۰۱۷ سے ۱۲ سے ۱۸ سال کی عمر کے نوجوان بھی اس مجموعے کا حصہ بنے ہیں۔ ان مکبرین کا شفٹ سسٹم،نماز کے اوقات کے مطابق ہے اور اس کام کے لئے مستقل طور پر آواز اور قرآنی صوت و لحن کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ نماز جماعت میں روحانیت و معنویت کی فضا برقرار کی جا سکے۔
عصری علوم اور رضوی تعلیمات
“امام علی رضا (ع) اور عصری علوم” پر چار بین الاقوامی کانفرنسز کا انعقاد کیا جاچکا ہے جن کے ذریعہ۱۶۰۰ سے زائد علمی مقالات موصول ہوئے۔یہ کانفرنسز جدید عصری علوم اور مذہبی تعلیمات کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کی علامت ہیں۔ان کانفرنسوں میں ملکی اور غیرملکی دانشوروں اور محققین کی شرکت نے عالمی سطح پر رضوی سیرت اور طرز زندگی کو متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیااور یونیورسٹیوں کو علمی و ثقافتی ڈپلومیسی میں فعال کردار ادا کرنے والے مراکز میں تبدیل کر دیاہے۔
امام علی رضا (ع) یونیورسٹی کے ساتھ علوم اسلامیِ رضوی یونیورسٹی نے دینی اور حوزوی بنیادوں پر تکیہ کرتے ہوئے دین کی تبلیغ کے لئے نئے راستے کھولے ہیں۔
تبلیغ کے خصوصی مرکز کی تأسیس،”تبلیغ اور دینی کمیونیکیشن”سبجیکٹ کو شروع کرنا، فن و ہنر کی تعلیم اور عملی تحقیق پر توجہ دینے جیسے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یونیورسٹی عالمی سطح پر دینی تبلیغ کے بارےمیں سوچتی ہے اور خود کو جدید اسلامی تہذیب سازی کے منصوبے کا حصہ سمجھتی ہے۔
دین کی تبلیغ میں جواب گو ہونا
روضہ منورہ امام علی رضا (ع) صرف ایک زیارتی مقام نہیں ہے بلکہ بہت سارے زائرین کے لئے یقین تک پہنچنے کا مقام ہے۔ اس نورانی بارگاہ میں ہر سوال کا جواب دیا جاتا ہے، گفتگو کے ذریعہ شکوک و شبہات زائل کئے جاتے ہیں۔ آستان قدس رضوی نے دین سے متعلق شکوک و شبہات کو دور کرنے کے عمل کو ایک سطحی اور وقتی جواب سے بڑھا کر ایک منظم ثقافتی اور تعلیمی نظام میں تبدیل کر دیا ہے۔
ان شکوک و شبہات کا جواب دینے کا ایک اہم راستہ “خصوصی نشستوں “ کا انعقاد ہے،ایسی نشستیں جو سالانہ تیس سے زیادہ سیمینارز پر مشتمل ہوتی ہیں جن
10 صفحه آخر







