printlogo


رواق خدمت”دینی تبلیغ”
’’دین کی تبلیغ‘‘س متعلق استان قدس رضوی کی سرگرمیو اور اقدامات کا مختصر جائز

دینی تبلیغ،طے شدہ منصوبوں اور اسٹرکچرز کا ایک مجموعہ ہونے سے زیادہ، دینی ادارے کی اُس نسبت کی عکاس ہے جو اسے معاشرے سے ہے اور جو مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہے۔اس میگزین میں اُسی نسبت کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے،جس کے تحت آج عملی طور پر”دینی تبلیغ” کے عنوان سے آستان قدس رضوی میں اسے تشکیل دیا گیا ہے اور اس پر عمل کیا جا رہا ہے۔
یہ میگزین”دینی تبلیغ”کے مفہوم پر ایک جامع نظر کا ماحصل ہے جو روایتی طریقوں اور جانے پہچانے اسٹرکچرز سے باہر ہے۔ “رواق خدمت” میگزین کے اس سلسلہ وار شمارے میں آستان قدس رضوی کی تبلیغی سرگرمیوں کی ایک منظم تصویر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جسے دینی تعلیمات کو فروغ دینے، زائرین اور مخاطبین کی روحانی شناخت کو مضبوط بنانے اور دین اور معاصر معاشرے کے مابین مؤثر رابطے کو بڑھانے کے مقصد سے تشکیل دیا گیا ہے۔
اس نقطہ نظر کی روشنی میں دینی تبلیغ صرف منبر،خطابت یا کسی خاص مناسبت تک محدود نہیں ہے بلکہ ہر وہ عمل جو معانی و مفاہیم کی منتقلی،دینی طرز زندگی کے تجربے،بالواسطہ تعلیم،گفتگواورثقافتی کاموں پر مشتمل ہو اسے بھی دینی تبلیغ کہا جائے گا۔
اس بنیاد پر یہ میگزین آستان قدس رضوی اور حرم امام علی رضا (ع) کی وسیع اور متنوع تبلیغی سرگرمیوں کو میڈیا،تعلیم،فن و ہنر،بین الاقوامی اور عوامی ڈھانچے میں پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
ذیل میں آستان قدس رضوی کی دینی تبلیغات کے دائرہ کار اور تنوع کو مختصراور واضح و شفاف انداز میں پیش کیا گیا ہے اورہر حصے کے اہم اور سرفہرست موضوعات کو مختصراً بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ آستان قدس رضوی کی دینی تبلیغات کے دائرہ کاراور متنوع سرگرمیوں کی مجموعی تصویر آپ قارئین کے لئے پیش کی جا سکے۔
 

 دینی خدمات کی مختصر تاریخ
مشہد مقدس میں حضرت امام علی رضا(ع) کا روضہ منورہ نہ فقط صدیوں سے زائرین و مجاورین کے لئے ایک محفوظ مقام ہے بلکہ دینی معارف اور شیعہ تعلیمات کو فروغ دینے کا اہم مرکز رہا ہے،حضرت امام علی رضا (ع) کے جسد مطہر کے دفن ہونے کے ابتدائی ایّام سے ہی اس مقدس مقام پر دین کی تبلیغ کا سلسلہ شروع ہو گیااور زبانی وکلامی طور پراہلبیت (ع) کے فضائل اور کرامت بیان کرنے سے لے کر حرم مطہر کے کتبوں اور سنگ نوشتوں تک یہ سلسلہ جاری رہا۔
عوامی مشارکت،عطیات اور نذورات کے ذریعےحرم امام علی رضا (ع) کی عمارتوں،رواقوں اور صحنوں کی توسیع کے ساتھ ساتھ یہ سرگرمیاں بھی تدریجی طور پر منظم ہوئیں اور زائرین کی روحانی تربیت میں مرکزی کردار ادا کرنے کے قابل بن گئیں۔
صفوی اور قاجاری دور ِحکومت میں شیعہ مذہب کو سرکاری مذہب کی حیثیت دی گئی اور حرم مطہرکے فن تعمیر میں توسیع کے ساتھ ساتھ دینی تبلیغ کو عمارت،کاشی کاری،آئینہ کاری اور عالیشان اسلامی نقوش کی صورت میں جاری رکھا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ حرم امام علی رضا (ع) کے صحنوں اور رواقوں میں مجالس وعظ اورفضائل و مصائب کی محافل کے انعقاد،مذہبی کتب کی نشر و اشاعت اور پرنٹنگ انڈسٹری کی وجہ سے دین کی تبلیغ کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا اورتعلیمی و ثقافتی سرگرمیاں پہلے سے زیادہ منظم ہوگئیں، جس کی وجہ سے حرم امام علی رضا (ع) میں باقاعدہ طور پر تبلیغی اداروں کی تأسیس و تشکیل کا میدان فراہم ہوااور عوام کی روحانی تربیت کا سلسلہ مزید مستحکم ہو گیا۔
انقلاب اسلامی کے بعد آستان قدس رضوی نے حرم امام علی رضا (ع) کو ایک ثقافتی، تعلیمی اور تبلیغی مرکز میں تبدیل کیا اور تبلیغی سرگرمیوں میں اضافہ کرتے ہوئے اسے مزید منظم کیا۔ زائرین و مجاورین کے لئے قرآن، اخلاق اورمعارف اہلبیت (ع) کی کلاسز اور معرفتی نشستوں کا انعقاد کیا گیا اورآستان قدس رضوی کے تبلیغات اسلامی اورکلچرل آرگنائزیشن جیسے اداروں نے اس سلسلے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
کتب،بروشرز اور ثقافتی مصنوعات کی وسیع پیمانے پر پبلشنگ،بک اسٹورز،معلوماتی اسٹالز، مذہبی تقریبات کا انعقاد اور مخصوص مناسبتیں دین کی تبلیغ کے مؤثرذرائع بن گئے۔
آخری چار دہائیوں میں آستان قدس رضوی کی تبلیغی سرگرمیاں بنیادی استحکام سے لے کر ڈیجیٹل اور بین الاقوامی عرصے میں داخل ہونے کی واضح مثال ہیں۔ ۱۹۸۰ اور۱۹۹۰ کی دہائی ثقافتی اور تعلیمی ڈھانچے کی از سر نو تعمیر اور تشکیل کی دہائی تھی، جن میں مختلف کلاسز اور روایتی تقریبات کےانعقاد،کتب کی نشر و اشاعت اور مخصوص دینی مناسبتوں پر خصوصی توجہ دی گئی، کمیونیکیشن کے جدید وسائل سے استفادہ،خصوصی تبلیغی و ثقافتی ڈھانچوں کی تشکیل،آڈیو اور وڈیو پروڈکشنز،سیمینارز اورعلمی و ثقافتی کانفرنسوں کا انعقاد وغیرہ بعد والی دو دہائیوں کی اہم خصوصیات تھیں۔ آخری دہائی بھی کامیاب رہی۔ ڈیجیٹل ترقی اور ورچوئل اسپیس میں فعال شمولیت، مختلف اپلیکیشنز اور میڈیا مواد کی فراہمی،اندرونی اور بیرونی مخاطبین کے ساتھ رابطہ، تحقیقات میں توسیع اورعلمی مراکز اور ماہرین کے ساتھ تعاون وغیرہ اس دہائی میں آستان قدس رضوی کی اہم ترجیحات رہی ہیں۔